کنداپور 17/ جون (ایس او نیوز) مرونتے ساحل پر تیز اور طوفانی لہروں کی وجہ سے زبردست سمندری کٹائی ہو رہی ہے اور اس کی وجہ سے عام لوگوں کے چلنے پھرنے کی سڑک بری طرح متاثر ہوگئی ہے ۔ جس رفتار سے سمندری موجیں کنارے کو کاٹ رہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پوری سڑک سمندر میں بہہ جائے گی ۔
بتایا جاتا ہے کہ امسال مانسون شروع ہونے سے قبل ہی گزشتہ ایک ہفتے سے اس علاقے میں سمندری موجیں ساحلی کنارے کو کاٹنے لگی ہیں اور روز بروز اس میں تیزی آتی جا رہی ہے ۔ سڑک کنارے پر موجود الیکٹرک کے کھمبے اور ناریل درخت یکے بعد دیگرے سمندری کٹائی کا شکار ہو رہے ہیں ۔
سمندری لہروں کی وجہ سے بنی ہوئی سڑک کی درگت اور درپیش مسائل کے سبب یہاں بسنے والے ماہی گیر سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں اور ضلع انتظامیہ ار ریاستی حکومت کی طرف سے اس کی روک تھام کے لئے کسی قسم کی تیاری نہ کیےجانے اور اس مسئلہ کا مستقل حل نہ نکالنے پر اپنے غصہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔
متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے والے مقامی ایم ایل اے گرو راج کنٹی ہولے نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا :" اڈپی ضلع کے تمام ساحلوں میں بیندور حلقہ اسمبلی کا علاقہ سب سے زیادہ سمندری کٹاو متاثر ہوا ہے ۔ میں نے ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے اس سلسلے میں اپنی معذوری کا اظہار کیا ۔ میں نے وزیر ماہی گیری سے ملاقات کی ہے اور انہیں حالات سے باخبر کیا ہے ۔ انہوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں فوراً کوئی اقدام کرے ۔ "
مرونتے ماہی گیر سیوا سمیتی کے صدر واسو دیو کھاروی نے کہا :" مرونتے میں ساحلی کنارے پر سمندری کٹاو ایک پرانا مسئلہ ہے ۔ گزشتہ سال طوفان کے دوران تقریباً 100 میٹر زمین سمندری لہروں کی نذر ہوگئی تھی ۔ 500 سے زائد ناریل درخت اکھڑ گئے تھے ۔ 50 سے زائد ماہی گیر کشتیوں کے لئے بنائے گئے شیڈس سمندر میں غائب ہوگئے تھے ۔ اُس وقت ہم لوگوں نے مزید کٹاو سے بچنے اور زمین کو سمندر کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے ہم لوگوں نے صرف ریت کے تھیلے کنارے پر رکھ دئے تھے ۔ جب بھی سمندری کٹاو ہوتا ہے تو حکومت کی پوری مشینری اس علاقے کی طرف امڈتی ہے ، لیکن اس مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش ابھی تک کسی نے بھی نہیں کی ۔"